نعرہِ مستانہ MTauseefAmin
Faiz Ahmad Faiz by Tina sani-Dil e Mann Musafer e mann(with English Translation)
updated
poet: Faiz Ahmad Faiz
Nikhar ptv
tabla: Taari ustad
Host: Ashfaq Ahmad
location: karwan saraye lahore
year 1974
lyrics
Na sawaal-e-vasl na arz-e-gham na hikaayatein na shikaayatein
Tere ahd mein dil-e-zaar ke sabhi ikhtiyaar chale gaye
translation
Neither a call for a lover’s tryst, nor a sorrowful petition
Neither unending tales, nor nagging complaints
In this your world I remain, afflicted
Those privileges my heart once held are long gone
توبہت دیرسے ملا ہے مجھے
تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے
دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے
ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں
اِک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فراز
سب میں اِک شخص ہی ملا ہے مجھے
(احمد فراز : کتاب : پس انداز موسم )
hum daikhain gy
by Iqbal bano
No. 36918,
with No.5B soundbox, 12-inch turntable, nickel plated fittings, in dark stained and polished teak case with front fall, horn triple column horn fret and cloth, corners of case with nickel plated caps.
Description
An Indian-made Gramophone, produced in Calcutta from 1915 to 1941. The cabinet is very substantial, to withstand tropical service. The horn aperture is behind the cloth screen. The door flap folds up when not in use. This was HMV’s last spring-wound table model. Acoustic reproduction and clockwork motors persisted much longer in India than in Europe. Dimensions: Width: 425 mm Depth: 660 mm Height: 630 mm.
Date
1915 to 1941
Producers
The Gramophone and Typewriter Co.
رانجھے ویکھ کے بل تے دل پھڑیا 104 دا جیویں بخار آیا،
قیدو چیف بن کے جیویں واپڈا دا غصہ بل دے وچ اُتار آیا،
قسمت بدلی نہ کدے پنجاب تیری بھاویں حمزہ تے بھاویں بزدار آیا
nature is a dream and I am her wanderer
وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بےنیازی
مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نَےنوازیمیں کہاں ہوں تُو کہاں ہے، یہ مکاں کہ لامکاں ہے؟
یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہسازیاسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و سازِ رومیؔ، کبھی پیچ و تابِ رازیؔوہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازینہ زباں کوئی غزل کی، نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دِلکُشا صدا ہو، عجَمی ہو یا کہ تازینہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا
یہ سپہ کی تیغ بازی، وہ نگہ کی تیغ بازیکوئی کارواں سے ٹُوٹا، کوئی بدگماں حرم سے
کہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازی
poet: Ahmad Nadeem Qasmi
PTV program Nikhar
1974 - 1978
اک بت مجھے بھی کعبہ دل میں پڑا ملا
واعظ کو وھم ھے کہ اسی کو خدا ملا
دن بھر جلائیں میں نے تمنا کی مشعلیں
جب رات آئی گھر کا دیا تک بجھا ملا
مجھ سے بچھڑ کے یوسف بے کارواں ھے تو
مجھ کو توخیر درد ملا، تجھ کو کیا ملا؟
احمد ندیم قاسمی
دھوکے دئیے کیا کیا ہمیں باد سحری نے
ہر منزل غربت پہ گماں ہوتا ہے گھر کا
بہلایا ہے ہر گام بہت دربدری نے
تھے بزم میں سب دود سر بزم سے شاداں
بیکار جلایا ہمیں روشن نظری نے
مے خانے میں عاجز ہوئے آزردہ دلی سے
مسجد کا نہ رکھا ہمیں آشفتہ سری نے
یہ جامۂ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا
مہلت ہی نہ دی فیضؔ کبھی بخیہ گری نے
اس نظم کا نام ”شکوہ“ اس لیے رکھا گیا ہے کہ موضوع کے اعتبار سے شکوہ بارگاہ الہٰی میں علامہ اقبال یا دور حاضر کے مسلمانوں کی ایک فریاد ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ ہم تیرے نام لیوا ہونے کے باوجود دنیا میں ذلیل و خوار ہیں۔ حالانکہ ہم تیرے رسول کے نام لیوا ہیں اور اس پر طرہ یہ ہے کہ تیرے انعامات اور نوازشات کے مستحق غیر مسلم ہیں۔ گویا علامہ اقبال نے شکوہ میں عام مسلمانوں کے لاشعوری احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ بقول سلیم احمد ،
” ایک طرف ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے محبوب کی سب سے چہیتی امت ہیں اور اس لیے خدا کی ساری نعمتوں کے سزاوار اور دوسری طرف یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان کا مکمل زوال ہو چکا ہے عقیدے اور حقیقت کے اس ٹکرائو سے مسلمانوں کا وہ مخصوص المیہ پیدا ہوتا ہے جو ”شکوہ “ کا موضوع ہے۔“
علامہ اقبال کے اپنے الفاظ میں
” وہی بات جو لوگوں کے دلوں میں تھی ظاہر کر دی گئی“
سلسلہ فکر و خیال کی ترتیب کے مطابق نظم کو ہم مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں،
اظہار شکوہ کی توجیہ
امت مسلمہ کا کارنامہ
مسلمانوں کی حالتِ زبوں
کیفیت یا س و بیم
دعائیہ اختتام
کیوں زیاں کار بنوں،سُود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں،محوِ غمِ دوش رھوں
نالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں
جُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے ،خاکمِ بدہن ہے مجھ کو
ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
ساز خاموش میں ،فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم
اے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لے
خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِله بھی سُن لے
تھی توموجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم
پُھول تھا زیب چمن پر نہ پریشان تھی شمیم
شرطِ اِنصاف ہے اَے صاحبِ الطافِ عمیم
بوئے گُل پھیلتی کِس طرح جو نہ ہوتی نسیم
ہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھی
ورنہ اُمّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی؟
ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہان کا منظر
کہیں مسجود تھے پتّھر،کہیں معبود شجر
خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی اِنساں کی نظر
مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر
تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟
قوّتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا
بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ،تُورانی بھی
اہلِ چیں چین میں،ایران میں ساسانی بھی
اِسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی
اِسی دُنیا میں یہودی بھی تھے،نصرانی بھی
پر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے
بات جو بگڑی ہوئی تھی،وہ بنائی کس نے
تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے ،کبھی دریاؤں میں
دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی
ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی میصبت کے لیے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے
سر بکف پھرتے تھے کیا،کیا دہر میں دولت کے لیے؟
قوم اپنی جو زرومالِ جہاں پہ مرتی
بُت فروشی کے عِوض بُت شکنی کیوں کرتی؟
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیر کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے
تجھ سے سر کش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
نقش توحید کاہر دِل پہ بٹھایا ہم نے
زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے
تُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نے
شہر قیصر کا جوتھا،اُسکو کیا سَر کس نے
توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے
کاٹ کے رکھ دیے کفّار کے لشکر کس نے
کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو؟
کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو؟
کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی
اور تیرے لیے زحمت کشِ پیکار ہوئی
کِس کی شمشیر جہاں گیر،جہاں دار ہوئی
کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی
کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
مُنہ کے بَل گر کے "ھُوَ اللہُ اَحَد"کہتے تھے
آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز
قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ هي کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرے
مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے
کوہ میں، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے
اور معلوم ہے تجھ کو،کبھی ناکام پھرے
دشت تو دشت ہیں ،دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
صفحۂ دۃر سے باطل سے کومٹایا ہم نے
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے
تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے
تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے
پھر بھی ہم سے یہ گِلا ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں،تُو بھی تو دِلدار نہیں!
(۱۳)
Kabhi Darya Se Misl-E-Mouj Ubhar Kar
Kabhi Darya Ke Sinay Mein Utar Kar
Sometimes by rising from the ocean like a wave,
Occasionally like a diver in its bosom behave.
Kabhi Darya Ke Sahil Se Guzar Kar
Maqam Apni Khudi Ka Faash Tar Kar!
At times cross beyond the ocean’s shore
To expose better your self’s real enclave.
معانی: مثل موج: لہر کی مانند ۔ خودی: اپنی پہچان ۔
مطلب: خودی، اپنی معرفت حاصل کرنے اور پھر اس کے درجہ و مرتبہ کو ظاہر سے ظاہر تر کرنے کے کئی مرحلے اور صورتیں ہیں ۔ ان مراحل اور صورتوں کو علامہ نے ایک دریا کی علامت میں بند کیا ہے ۔ انھوں نے دریا سے کائنات مراد لی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی خودی کو اجاگر کرنے اور اس کے ظہور خارجی کی ایک صورت تو یہ ہے کہ دریائے کائنات میں لہروں کی مانند ابھرو مرا د ہے اس کی عناصر اور قوتوں کو مسخر کرو ۔
مطلب: دوسری صورت یہ ہے کہ اس دریا کے اندر اتر کر دیکھو کہ اس میں کیا ہے اور اس سے استفادہ کرو ۔ مراد ہے کہ اس کائنات کے ذرات کے پیچھے جو خالق کی صفات اور اسما کا نور موجود ہے اسے دیکھو ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کائنات سے بالاتر ہو کر جہان روح کی سیر کرو اور روح کی بالیدگی کے اسباب پید ا کرو ۔ نفس کے خلاف جہاد کر کے دل کو غیر اللہ کے بتوں سے خالی کر دو ۔ غرض کہ مسلمان کے لئے لازم ہے کہ ہر طریقے سے اپنے اندر موجود خودی کی قوتوں کو خارج میں ظاہر کرے اور دریائے کائنات کو اپنی مرضی کے مطابق موڑ لے ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو دریا کی مرضی اس پر مسلط ہو جائے گی اور وہ اپنی لہروں میں جس طرح پسند کرے گا اسے ڈبوتا رہے گا ۔ آج مسلما ن کے زوال کا یہی سبب ہے کہ اسے اپنی معرفت حاصل نہیں ہے اسے معلوم نہیں کہ وہ کن صلاحیتوں کا مالک ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر کیا جو ہر رکھے ہیں اور اسے کس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ۔
#poetry #allamaiqbal #9thnovember #dari
QUATRAIN
Tere Darya Mein Toofan Kyun Nahin Hai
Khudi Teri Musalman Kyun Nahin Hai
Abas Hai Shikwa’ay Taqdeer-E-Yazdan
Tu Khud Taqdeer-E-Yazdan Kyun Nahin Hai?
----
Thy river keeps not, no tempest why?
To be a Muslim why fails ego thy?
Second Version:In thy river why there rises no gales?
To be a Muslim why thy ego fails.
Of fate why you’re weeping solate,
You are ‘not why’ the God’s own fate.
#poetry #allamaiqbal #farsi
kalam-e-iqbal by Hamid Ali Khan
مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا! Once more I feel the urge to wail And weep at dead of night: O traveller, stop a bit, perchance I face some awful site. ڈرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈوب جا تو بھی کہ اس جنگاہ سے میں بن کے تیغِ بے نیام آیا! Explore the mysteries of fate, as I have done, And have come out unscathed, a naked sword in the fight. یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محرابِ مسجد پر یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا! Someone audacious wrote on the mosques wall: These fools prostrated, when it was time to stand. چل اے میری غریبی کا تماشا دیکھنے والے وہ محفل اٹھ گئی جس دم، تو مجھ تک دورِ جام آیا! Do not be ashamed at my poverty— remember: When the cup came round to me, all my comrades had gone. بالِ جبریل
Poet: Adeem Hashmi
Kat hi Gai Judai Bhi Kab Yeh Hua ke Mar Gae
PTV Program: Nikhaar 1974
کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے
تیرے بھی دن گزر گئے ، میرے بھی دن گزر گئے
تو بھی کچھ اور،اور ہے ہم بھی کچھ اوراور ہیں
جانے وہ تو کدھر گیا، جانے وہ ہم کدھر گئے
راہوں میں ملے تھے ہم ، راہیں نصیب بن گئیں
تو بھی نہ اپنے گھر گیا، ہم بھی نہ اپنے گھر گئے
وہ بھی غبارِ خاک تھا، ہم بھی غبارِ خاک تھے
وہ بھی کہیں بکھر گیا، ہم بھی کہیں بکھر گئے
کوئی کنارِآبِ جو بیٹھا ہوا ہے سرنگوں
کشتی کدھر چلی گئی، جانے کدھر بھنور گئے
تیرے لئے چلے تھے ہم ، تیرے لئے ٹھہر گئے
تو نے کہا تو جی اٹھے، تو نے کہا تو مر گئے
وقت ہی جدائی کا اتنا طویل ہو گیا
دل میں ترے وصال کے جتنے تھے زخم بھر گئے
بارش وصل وہ ہوئی سارا غبار دُھل گیا
وہ بھی نکھر نکھر گیا، ہم بھی نکھر نکھر گئے
اتنے قریب ہو گئے، اتنے رقیب ہو گئے
وہ بھی عدیم ڈر گیا، ہم بھی عدیم ڈر گئے
Baal e Jibreel
وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بےنیازی
مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نَےنوازی
میں کہاں ہوں تُو کہاں ہے، یہ مکاں کہ لامکاں ہے؟
یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہسازی
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و سازِ رومیؔ، کبھی پیچ و تابِ رازیؔ
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی
نہ زباں کوئی غزل کی، نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دِلکُشا صدا ہو، عجَمی ہو یا کہ تازی
نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا
یہ سپہ کی تیغ بازی، وہ نگہ کی تیغ بازی
کوئی کارواں سے ٹُوٹا، کوئی بدگماں حرم سے
کہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازی
اب اوربھی تجھ پرکوئی الزام نہ آئے
تم بھی توسنومجھ سےتمھی نےتوکہا تھا
ہر دم ہو میرا ذکر پر میرا نام نہ آئے
استاد امانت علی خان
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب، سرِ رہگزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے شبِ اِنتظار چلی گئی
مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر میرے غمگسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل، نہ عرضِ غم، نہ حکائتیں نہ شکائتیں
ترے عہد میں دلِ زار کے سبھی اِختیار چلے گئے
نہ رہا جنونِ رُخِ وفا، یہ رَسَن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہگار چلے گئے
یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے
فيض احمد فيضؔ
Mairi Nazar Nahin Sooye Kof-o-Baghdad.
Ye Madarsa, Ye Jawan, Ye Sarwar-o-Rainae,
Unhi Kay Dum Sy Hy Maiye Khan-e-Farang Abad.
Na Falsafi Sy, Na Mullan SY, Hy Gharz Mujhko,
Ye Dil Ki Mout! Wo Andesha-o-Nazaar Ka Fasad.
Faqihaye Shehar Ki Tehqeer! Kia Majaal Mairi!
Magar Ye Baat Kay Main Dhoondta Hun Dil Ki Kushad
Khareed Sakhty Hain Duniya Main Ashrat Parwaiz,
Khuda Ki Deen Hy, Sarmayeye Gham-e-Farhad.
Kiya Hain Faash, Ramooz-e-Qalandari Main Nain,
Ky Fiqr-e-Madrasa Wo Khanqa AHo Azad.
Rashi Ky Faqon Sy Toota Na Barhaman Ka Tilasam,
Asaana Ho Toh Kaleemi (A.S) Hay Kar-e-Be Buniyaad
Ilaha Illa Allah
ہستی ما نظام ما
مستی ما خرام ما
گردش بی مقام ما
زندگے دوام ما
دور فلک بکام ما می نگریم و میرویم
جلوہ گہ شہود را
بتکدۂ نمود را
رزم نبود و بود را
کشکمش وجود را
عالم دیر و زود را می نگریم و میرویم
گرمے کار زار ہا
خامی پختہ کار ہا
تاج و سریر و دار ہا
خواری شھریار ہا
بازی روزگارہا می نگریم و میرویم
خواجہ ز سروری گذشت
بندہ ز چاکری گذشت
زاری و قیصری گذشت
دور سکندری گذشت
شیوۂ بتگری گذشت می نگریم و میرویم
خاک خموش و در خروش
سست نہاد و سخت کوش
گاہ بہ بزم نا و نوش
گاہ جنازہ ئی بدوش
میر جھان و سفتہ گوش می نگریم و میرویم
تو بہ طلسم چون و چند
عقل تو در گشاد و بند
مثل غزالہ در کمند
زار و زبون و دردمند
ما بہ نشیمن بلند می نگریم و میرویم
پردہ چرا ظہور چیست؟
اصل ظلام و نور چیست؟
چشم و دل و شعور چیست؟
فطرت ناصبور چیست؟
این ھمہ نزد و دور چیست می نگریم و میرویم
بیش تو نزد ما کمی
سال تو پیش ما دمے
ای بکنار تو یمی
ساختہ ئی بہ شبنمی
ما بہ تلاش عالمی می نگریم و میرویم
Advertisements
مگر یہ لوگ پاگل ہوگئے ہیں
بہاریں لے کے آئے تھے جہاں تم
وہ گھر سنسان جنگل ہو گئے ہیں
یہاں تک بڑھ گئے آلام ہستی
کہ دل کے حوصلے شل ہوگئے ہیں
کہاں تک تاب لائے ناتواں دل
کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں
نگاہ یاس کو نیند آ رہی ہے
مژہ پر اشک بوجھل ہو گئے ہیں
انہیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ
یہاں جو حادثے کل ہوگئے ہیں
جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہوگئے ہیں
ناصر کاظمی
گلوکارہ ملکہ پکھراج
poet : Allama iqbal
شاعر: علامہ محمد اقبال
منسوخ غزل
جان دے کر تمہیں جینے کی دعا دیتے ہیں
پھر بھی کہتے ہو کہ عاشق ہمیں کیا دیتے ہیں
کوچہٓ یار میں ساتھ اپنے سُلایا ان کو
بختِ خُفتہ کو مرے پانوں دُعا دیتے ہیں
بدگمانی کی بھی کچھ حد ہے کہ ہم قاصد سے
قسمیں سو لیتے ہیں ، جب ایک پتا دیتے ہیں
موت بازار میں بکتی ہے تو لا دو مجھ کو
ہم نشیں کس لیے جینے کی دُعا دیتے ہیں
رحم آتا ہے ہمیں قیس کی عریانی پر
دھجّیاں دامنِ صحرا کی اُڑا دیتے ہیں
ایسی ذلّت ہے مرے واسطے عزت سے سِوا
خُود وہ اُٹھ کر مجھے محفل سے اُٹھا دیتے ہیں
غیر کہتے ہیں کہ یہ پھول گیا ہے مُردہ
قبر پر میری ، جو وہ پھول چڑھا دیتے ہیں
موت بولی ، جو ہوا کوچہٓ قاتل میں گزر
سر اسی راہ میں مَردان خُدا دیتے ہیں
اُن کو بےتاب کیا ، غیر کا گھر پھُونک دیا
ہم دعائیں تجھے ، اے آہِ رسا دیتے ہیں
گرم ہم پر کبھی ہوتا ہے جو وہ بُت اقباؔل
حضرتِ داغؔ کے اشعار سُنا دیتے ہیں
Poet : Mirza Asad Ullah Khan Ghalib
Nikhar
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی
If not love, then madness, my feelings deem you be
And so be it my craziness is cause of fame for thee
قطع کیجے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
I beg of you not to sever, all contact with me
If nothing else can be I will bear with your enmity
میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
If in meeting me you feel shame and ignominy
In seclusion we can meet, for no one there to see
ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
How, at my rival's love for you, offended can I be
Does my love for you make me my own enemy
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
Should be with one's own being whatever that you see
If not with enlightenment then with ignorance let be
عمر ہرچند کہ ہے برق خرام
دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
Tho merely a lightning flash this life is seemingly
Even then to bleed this heart time enough there be
ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
Wherever do I waver say from my constancy
Even if these paths of love present adversity
کچھ تو دے اے فلک ناانصاف
آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
O unjust heavens this much,you must give to me
The leave to sigh and cry out if only it must be
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
بے نیازی تری عادت ہی سہی
I will learn the habit of saluting constantly
Tho it may be your wont to behave indifferently
یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔ
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
Dalliance with the loved one should be incessantly
If union is not possible the hope for it should be
Poet: Allama Iqbal
Book: Zaboor E Ajam
ا=ے= =غ=نچۂ خوابیدہ چو نرگس نِگَراں خیز
کاشانۂ ما، رفت بتَاراجِ غماں، خیز
از نالۂ مرغِ چمن، از بانگِ اذاں خیز
از گرمیِ ہنگامۂ آتش نفَساں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز
اے سوئے ہوئے غنچے، نرگس کی طرف دیکھتے ہوئے اٹھ، ہمارا گھرغموں اور مصیبتوں نے برباد کر دیا، اٹھ، چمن کے پرندے کی فریاد سے اٹھ، اذان کی آواز سے اٹھ، آگ بھرے سانس رکھنے والوں کی گرمی کے ہنگامہ سے اٹھ، (غفلت کی) گہری نیند، گہری نیند، (بہت) گہری نیند سے اٹھ۔
خورشید کہ پیرایہ بسیمائے سحر بست
آویزہ بگوشِ سحر از خونِ جگر بست
از دشت و جبَل قافلہ ہا، رختِ سفر بست
اے چشمِ جہاں بیں بہ تماشائے جہاں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز
سورج جس نے صبح کے زیور سے ماتھے کو سجھایا، اس نے صبح کے کانوں میں خونِ جگر سے بندہ لٹکایا، یعنی صبح ہو گئی، بیابانوں اور پہاڑوں سے قافلوں نے سفر کیلیے سامان باندھ لیا ہے، اے جہان کو دیکھنے والے آنکھ، تُو بھی جہان کے تماشا کیلیے اٹھ، یعنی تو بھی اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ۔
خاور ہمہ مانندِ غبارِ سرِ راہے است
یک نالۂ خاموش و اثر باختہ آہے است
ہر ذرّۂ ایں خاک گرہ خوردہ نگاہے است
از ہند و سمر قند و عراق و ہَمَداں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز
مشرق (خاور) سب کا سب راستے کے غبار کی مانند ہے، وہ ایک ایسی فریاد ہے جو کہ خاموش ہے اور ایک ایسی آہ ہے جو بے اثر ہے، اور اس خاک کا ہر ذرہ ایک ایسی نگاہ ہے جس پر گرہ باندھ دی گئی ہے (نابینا ہے)، (اے مشرقیو) ہندوستان و سمرقند (وسطی ایشیا) و عراق (عرب) اور ہمدان(ایران، عجم) سے اٹھو، گہری نیند، گہری نیند، بہت گہری نیند سے اٹھو۔
دریائے تو دریاست کہ آسودہ چو صحرا ست
دریائے تو دریاست کہ افزوں نہ شُد وکاست
بیگانۂ آشوب و نہنگ است، چہ دریاست؟
از سینۂ چاکش صِفَتِ موجِ رواں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز
تیرا دریا ایک ایسا دریا ہے کہ جو صحرا کی طرح پرسکون (بے آب) ہے، تیرا دریا ایک ایسا دریا ہے کہ جو بڑھا تو نہیں البتہ کم ضرور ہو گیا ہے، یہ تیرا دریا کیسا دریا ہے کہ وہ طوفانوں اور مگر مچھوں (کشمکشِ زندگی) سے بیگانہ ہے، اس دریا کے پھٹے ہوئے سینے سے تند اور رواں موجوں کی طرح اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو۔
ایں نکتہ کشائندۂ اسرارِ نہاں است
ملک است تنِ خاکی و دیں روحِ رواں است
تن زندہ و جاں زندہ ز ربطِ تن و جاں است
با خرقہ و سجّادہ و شمشیر و سناں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز
یہ بات چھپے ہوئے بھیدوں کو کھولنے والی ہے (غور سے سن)، تیرا خاکی جسم اگر ملک ہے تو دین اسکی جان اور روحِ رواں اور اس پر حکمراں ہے، جسم اور جان اگر زندہ ہیں تو وہ جسم اور جان کے ربط ہی سے زندہ ہیں، لہذا خرقہ و سجادہ و شمشیر و تلوار کے ساتھ (یعنی صوفی، زاہد اور سپاہی) اٹھ، گہری نیند، گہری نیند، بہت گہری نیند میں ڈوبے ہوئے اٹھ۔
ناموسِ ازَل را تو امینی، تو امینی
دارائے جہاں را تو یَساری تو یَمینی
اے بندۂ خاکی تو زمانی تو زمینی
صہبائے یقیں در کش و از دیرِ گماں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز
ازل کی ناموس کا تو ہی امانت دار ہے، جہان کے رکھوالے کا تو ہی دایاں اور بایاں (خلیفہ) ہے، اے مٹی کے انسان تو ہی زمان ہے اور تو ہی مکان ہے (یعنی انکا حکمران ہے) تو یقین کے پیمانے سے شراب پی اور وہم و گمان و بے یقینی کے بتکدے سے اٹھ کھڑا ہو، گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو، بہت گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو۔
فریاد ز افرنگ و دل آویزیِ افرنگ
فریاد ز شیرینی و پرویزیِ افرنگ
عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزیِ افرنگ
معمارِ حرم، باز بہ تعمیرِ جہاں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز
فریاد ہے افرنگ سے اور اسکی دل آویزی سے، اسکی شیریں (حسن) اور پرویزی (مکاری) سے، کہ تمام عالم افرنگ کی چنگیزیت سے ویران اور تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ اے حرم کو تعمیر کرنے والے (مسلمان) تو ایک بار پھراس (تباہ و برباد) جہان کو تعمیر کرنے کیلیے اٹھ کھڑا ہو، (لیکن تُو تو خوابِ غفلت میں پڑا ہوا ہے) اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ۔
Muhammad Iqbal was a South Asian Muslim writer, philosopher, and politician, whose poetry in the Urdu language is thought by many to be among the greatest of the twentieth century, and whose vision of a cultural and political ideal for the Muslims of British-ruled India was to animate the impulse for Pakistan. He is commonly referred to by the honorific Allama (from Persian علامه ʻallāma, "very knowing, most learned".)
Born and raised in Sialkot, Punjab (present-day Pakistan) in an ethnic Kashmiri family, Iqbal studied in Sialkot and Lahore, and thereafter in England and Germany. Although he established a law practice after returning, he concentrated primarily on writing scholarly works on politics, economics, history, philosophy, and religion. He is best known for his poetic works, including Asrar-e-Khudi—which brought a knighthood—Rumuz-e-Bekhudi, and the Bang-e-Dara. In Iran, =where he is known as Iqbāl-e Lāhorī (Iqbal of Lahore), he is highly regarded for his Persian works. Iqbal was a strong proponent of the political and spiritual revival of Islamic civilization across the world, but in particular in South Asia; a series of lectures he delivered to this effect were published as The Reconstruction of Religious Thought in Islam
#allamaiqbal #farsi #poetry #wisdom #persian #dari
=گ=فتم کہ شیریں از شکر گفتا کہ گفتار منست
میں نے کہا چاند سے زیادہ کچھ روشن ہے؟ کہا میرے رخسار
میں نے کہا شکر سے زیادہ میٹھا کچھ ہے؟کہا میری گفتار
گفتم طریق عاشقاں گفتا وفاداری بود
گفتم مکن جور و جفا گفتا کہ ایں کار منست
میں نے کہا عاشقوں کا طریق کیا ہے؟ کہا محبوب سے وفاداری
میں نے کہا کہ جور و جفا نہ کیجیے، کہا یہ تومیرا کام ہے
گفتم کہ مرگ عاشقاں گفتا کہ درد ہجر من
گفتم علاج زندگی گفتا کہ دیدار منست
میں نے کہا مرگ ناگہاں کیا ہے؟ کہا میرے ہجر کا درد
میں نے کہا زندگی کا علاج کیا ہے؟ کہا میرا دیدار
گفتم بہاری یا خزاں گفتا کہ رشک حسن من
گفتم خجالت کبک را گفتا کہ رفتار منست
میں نے کہا توبہار ہے یا خزاں، کہا کہ وہ میرے حسن پر رشک کناں ہیں میں نے کہا کہ چکور کی شرمندگی کیا ہے،کہا کہ میری رفتار
گفتم کہ حوری یا پری گفتا منم شاہ بتاں
گفتم کہ خسروؔ ناتواں گفتا پرستار منست
میں نے کہا کہ یہ حور و پری کیا ہے؟ کہا کہ میں خوبروؤں کاباد شاہ ہوں/ میرا مقام ان سے بلند ہے
میں نے کہا کہ خسروؔ تو ناتواں ہے، کہا میرا پرستار تو ہے
The Mentor And The Disciple
Chashm-e-Beena Se Hai Jari Joo’ay Khoon
Ilm-e-Hazir Se Hai Deen Zaar-o-Zuboon!
Discerning eyes bleed in pain,
For faith is ruined by knowledge in this age
Ilm Ra Bartan Zni Mare Bawad
Ilm Ra Bar Dil Zni Yaare Bawad
Fling it on the body, and knowledge becomes a serpent;
Fling it on the heart, and it becomes a friend
Ae Imam-e-Ashiqaan-e-Dardmand!
Yaad Hai Mujh Ko Tera Harf-e-Buland
Master of love; of God!
I do remember your noble words
Khushk Maghaz-o-Khushk Taar-o-Khushk Post
Az Kuja Mee Ayed Aen Awaz-e-Dost’
‘Where from comes this Friendly voice—
Thin, feeble, and dry as a reed?’
Dour-e-Hazir Mast-e-Ching-o-Be-Suroor
Besabat-o-Beyaqeen-o-Behazoor
The world today has an eternal sadness,
With neither joy, nor love, nor certitude,
Dour-e-Hazir Mast-e-Ching-o-Be-Suroor
Besabat-o-Beyaqeen-o-Behazoor
Kya Khabar Iss Ko Ke Hai Ye Raaz Kya
Dost Kya Hai, Dost Ki Awaz Kya
What doth it know about this mystery—
Who is the friend, and what is the friend’s voice?
Bar Samaa-e-Rast Harkas Cheer Neest
Ta’ama-e-Har Murghke Anjeer Neest
Every ear is not attuned to the word of truth,
As a fig suits not the palate of every bird
Sirr-e-Adam Se Mujhe Agah Kar
Khak Ke Zarre Ko Mehar-o- Mah Kar!
Tell me about the secret of man,
Tell how dust is a peer of the stars
Zahirish Ra Passha-e-Ard Ba-Charkh
Batinish Amad Muheet-e-Haft Charkh
His outside dies of an insect’s bite,
His inside roams the seven heavens.
Khak Tere Noor Se Roshan Basar
Ghayat-e-Adam Khabar Hai Ya Nazar?
Dust with your help has a luminous eye,
Is man’s purpose knowledge or vision?
Admi Deed Ast, Baqi Post Ast
Deed Aan Bashad Ke Deed-e-Dost Ast
Man is perception; the rest is skin;
Perception is the perception of God
Ilm-o-Hikmat Ka Mile Khyunkar Sooragh
Kis Tarah Hath Aye Souz-o-Dard-o-Dagh?
What is the secret of knowledge and wisdom?
And how to be blessed with passion and pain?
Ilm-o- Hikmat Zayed Az Naan-e-Halal
Ishq-o-Riqqat Ayed Az Naan-e-Halal
Knowledge and wisdom are born of honest living;
Love and ecstasy are born of honest living.
Poet: Faiz Ahmad Faiz
=========
دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے، تیرے ہونٹوں کے سراب
دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں تیرے پہلو کے سمن اور گلاب
دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے تیرے ہونٹوں کے سراب
اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تیری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی
مدھم مدھم ۔۔
دور افق پار چمکتی ہوئی
قطرہ قطرہ۔۔
گر رہی رہے تیری دلدار نظر کی شبنم
دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے، تیرے ہونٹوں کے سراب
اس قدر پیار سے اے جان جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پے اس وقت تیری یاد نے ہاتھ
یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات
دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے، تیرے ہونٹوں کے سراب


